بھٹکل 7؍جنوری (ایس او نیوز)یہاں پرچوتھنی علاقے کے عوام نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ آدھی رات کو اچانک ایک گھر پر چھاپہ ماری کرتے ہوئے مکینوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے پولیس کے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ چوتھنی کے رہنے والے لچمیّا جٹّیا نائک کے گھر پر ایک پولیس سب انسپکٹر اور چند اہلکاروں نے رات کے وقت گھر میں گھس کر تلاشی لینی شروع کی۔ اس پراعتراض کرتے ہوئے لچمیا نائک نے چھاپہ ماری اور تلاشی کی وجوہات بتانے کو کہا تو گھرکے مکینوں اور پولیس والوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی۔ہنگامہ دیکھ کر اڑوس پڑوس کے لوگ بھی جمع ہوگئے اور پولیس کو چھاپہ ماری کا سبب اور تلاشی وارنٹ دکھانے کے لئے کہا۔اس کے جواب میں پولیس والوں کا کہنا تھا کہ ہم یہاں اپنے اعلیٰ افسران کی ہدایت پر تلاشی لینے آئے ہیں، اگر ہماری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پھر ان لوگوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنا ضروری ہوجائے گا۔
پولیس کے اس جواب پر جائے وقوع پر جمع ہونے والے عوام برہم ہوگئے اور کہاں کہ اعلیٰ پولیس افسران کی طرف سے جو ہدایت نامہ آیا ہے وہ لے آئیں یا پھرعدالت سے لیا گیا تلاشی وارنٹ دکھائیں۔عوام کاموڈ دیکھنے کے بعد پولیس نے جب محسوس کیا کہ اپنی دال گلنے والی نہیں ہے تو پھر یہ کہتے ہوئے وہاں سے کھسک گئے کہ لچمیّا کا پیشہ صحیح نہیں ہے، ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔
واردات کے دوران کسی نے پولس کے ساتھ ہوئی تکرار کی موبائل کے ذریعے وڈیو بنائی اور سوشیل میڈیا پر پوسٹ کردی، جس کے ذریعے میڈیا والوں کو بھی واقعے کی جانکاری ملی۔
اس تعلق سے پولیس کے اعلیٰ افسرسے ساحل آن لائن نے سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ لچمیّانائک دراصل ایک مٹکا (جوئے بازی) چلانے والا شخص ہے اور اس سے قبل اس پر چار پانچ مقدمات درج ہیں۔ اس کے خلاف تازہ شکایت ملنے پر پولیس نے وہاں پہنچ کر معائنہ کیا تھا۔